پی آئی اے: خسارے میں ڈوبی پاکستان کی قومی ایئرلائن کو ٹھیک کرنے کے بجائے فروخت کیوں کیا جا رہا ہے؟ PIA: Why is Pakistan's loss-making national airline being sold instead of being fixed


 


پی آئی اے: خسارے میں ڈوبی پاکستان کی قومی ایئرلائن کو ٹھیک کرنے کے بجائے فروخت کیوں کیا جا رہا ہے؟

PIA: Why is Pakistan's loss-making national airline being sold instead of being fixed?

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری اور ایئرپورٹس کی ’آؤٹ سورسنگ‘ کے معاملوں میں ’اچھی پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے کوششیں ہوئی ہیں مگر اب گذشتہ دنوں ایک پیشرفت تب سامنے آئی جب ایئرلائن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے نجکاری کے لیے ’سکیم آف ارینجمنٹ‘ کی منظوری دی۔

اس حوالے سے پاکستان کی وفاقی حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ’پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن ہولڈنگ کمپنی‘ کی تشکیل کی منظوری دی۔

پی آئی اے مسلسل کئی برسوں سے خسارے کا شکار ہے اور اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔ گذشتہ ادوار میں انتظامی تبدیلیوں کے ذریعے بہتری لانے کی تمام تر کوششیں بھی ناکام ہوئی ہیں۔



Pakistan's Federal

 Finance Minister Muhammad Aurangzeb says that there has been "good progress" in the privatization of the country's national airline (PIA) and the "outsourcing" of airports.


There have been attempts to privatize PIA over the years, but a breakthrough came recently when the airline's board of directors approved a 'scheme of arrangement' for privatisation.

In this regard, the federal government of Pakistan approved the formation of 'Pakistan International Airline Holding Company' for the privatization of PIA.


PIA has been suffering from losses for many years and is one of the government-sponsored enterprises that lose billions of rupees annually to the national exchequer. All attempts to bring about improvement through administrative changes in the past have also failed.

نگراں حکومت کے دور میں اس ادارے کی نجکاری کے لیے دوبارہ کوششیں شروع کی گئی تھیں اور اس کے اختتامی دنوں میں کابینہ کی جانب سے نجکاری کی منظوری بھی دی گئی۔

آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد بننے والی نئی حکومت کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری جون تک ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

Efforts to privatize the institution were resumed during the caretaker government and in its final days the Cabinet approved the privatization.


Finance Minister Mohammad Aurangzeb of the new government formed after the February 8 elections expects the privatization of PIA to be completed by June.

Comments

Popular posts from this blog

5 Best Video Editors with 5 Star Ranking

چین میں، آپ بیت الخلا میں پیشاب کرنے جاتے ہیں، اور.....In China, you go to pee in the toilet, and