غزہ جنگ کا فیصلہ کُن مرحلہ اور حکومتوں کو درپیش بڑے سوالات: کیا ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر سکتے ہیں؟ Decisive Phases of the Gaza War and Big Israeli Questions for Governments: Can Iran and Hezbollah Go to War
غزہ جنگ کا فیصلہ کُن مرحلہ اور حکومتوں کو درپیش بڑے سوالات: کیا ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر سکتے ہیں؟
- جیریمی بوون
- انٹرنیشنل ایڈیٹر
مختصر تنازعات کے علاوہ تمام ہی بڑی جنگوں میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب قتل و غارت گری کا سلسلہ ایک نہ تبدیل ہونے والا معمول بن جاتا ہے۔
اس دوران ایسے بھی لمحات آتے ہیں، جیسے گذشتہ کچھ دنوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ہو رہا ہے، جب کچھ واقعات جنگ میں مصروف فریقین اور ان کے اتحادیوں کو ایک ایسے چوراہے پر لاکھڑا کرتے ہیں جہاں انھیں کچھ بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
یہ ایک ایسا وقت ہے جب دُنیا بھر میں حکومتوں، اسرائیل، امریکہ، ایران، یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی افواج اور بیروت میں حزب اللہ کے مسلح جتھوں کو ایسے ہی فیصلوں کے انتخاب کا سامنا ہے۔
غزہ میں فلاحی کارکنان کی ہلاکت سے شاید امریکہ سمیت اسرائیل کے دیگر اتحادیوں کا صبر جواب دے جائے۔
- In all major wars, except for short conflicts, there comes a time when the killing and slaughtering becomes an unalterable routine.Meanwhile, there are moments, like what has been happening in the Middle East over the past few days, when certain events bring the warring parties and their allies to a crossroads where they have to make some big decisions.This is a time when governments around the world, Israel, the United States, Iran, the forces of European and Middle Eastern countries, and the armed groups of Hezbollah in Beirut are faced with a choice of similar decisions.The death of humanitarian workers in Gaza may show the patience of other allies of Israel, including the United States.
سرائیل اور مصر نے غزہ میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اگر کبھی اجازت دی بھی جاتی ہے تب بھی صحافیوں کے یہ دورے اسرائیلی فوج کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور انتہائی مختصر ہوتے ہیں۔
جنگ میں مصروف فریقین کو یہ سوچنا ہو گا کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں جنگ میں ہار اور جیت کا اندازہ عموماً حقیقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اس کو دیکھنے کے طریقے سے بھی لگایا جاتا ہے۔ صحافیوں کو جنگ کے مقام تک رسائی اس وقت ہی نہیں دی جاتی جب جنگ میں مصروف فریقین کچھ چُھپا رہے ہوں۔
لیکن غزہ میں غیرملکی صحافیوں کی عدم موجودگی کے باوجود بھی ایسے ثبوتوں کا انبار لگ رہا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اپنے دعوؤں کے برعکس جنگی قوانین کی پاسداری نہیں کر رہا جس کے تحت وہ عام لوگوں کی زندگیوں اور قحط کے دوران کام کرنے والے فلاحی اداروں کے کارکنان کی زندگیوں کی حفاظت کرنے کا پابند ہے۔
غزہ میں فلاحی ادارے ’ورلڈ کچن‘ کے کارکنان کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے عوامی سطح پر اسرائیلی اقدامات کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
Israel and Egypt have banned journalists from entering Gaza, and even if they are ever allowed, journalistic visits are under Israeli military supervision and are very brief.
The parties to the war have to realize that we live in an age where winning and losing a war is usually measured by the way people see it as well as the reality. Journalists are not allowed access to war sites only when the
warring parties are hiding something.
But despite the absence of foreign journalists in Gaza, there is mounting evidence that Israel, contrary to its claims, is not abiding by the laws of war, under which it has threatened civilian lives and famine. It is bound to protect the lives of the workers of
welfare institutions working duringAfter the death of the workers of the charity organization "World Kitchen" in Gaza, US President Joe Biden has strongly condemned the Israeli actions in public.
اب امریکی صدر اور اُن کے مشیروں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اسرائیل کی کارروائیوں پر صرف اُن کا زبانی جمع خرچ کافی ہو گا یا نہیں۔ اب تک اُن کی جانب سے غزہ میں امریکی ہتھیاروں کے استعمال یا اسرائیل کو ہتھیار مہیا کرنے پر پابندی کے مطالبات پر مزاحمت کی گئی ہے۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اپنے منصب پر ٹِکے رہنے کے لیے سخت گیر قدامت پسند یہودیوں کی حمایت درکار ہے۔ اسرائیل کے پاس ہتھیار اب بھی پہنچ رہے ہیں اور شاید بنیامین نیتن یاہو کو ایسا محسوس ہونے لگا ہو کہ وہ اس صورتحال میں بھی امریکی صدر کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
ایسے میں اسرائیل کا رفح میں حماس پر حملہ کرنے کا منصوبہ اور غزہ پر حملوں میں اضافہ کرنا امریکہ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
Israel and Egypt have banned journalists from entering Gaza, and even if they are ever allowed, journalistic visits are under Israeli military supervision and are very brief.
The parties to the war have to realize that we live in an age where winning and losing a war is usually measured by the way people see it as well as the reality. Journalists are not allowed access to war sites only when the warring parties are hiding something.
نتخابات کے سال میں امریکی مفادات اور جو بائیڈن کے سیاسی مستقبل کو پہلے ہی اسرائیل کی وجہ سے بڑا دھچکہ لگا ہے کیونکہ متعدد ممالک میں امریکہ کو اسرائیل کا ساتھی ہی تصور کیا جا رہا ہے۔
رواں ہفتے ہرنیا کے آپریشن کے دو دن بعد اسرائیلی صدر اپنے دفتر واپس آ چکے ہیں اور اس موقع پر انھیں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بنیامین نیتن یاہو بطور وزیرِاعظم استعفیٰ دیں اور نئے پارلیمانی انتخابات کا اعلان کریں۔
اسرائیل میں گذشتہ برس 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیلیوں نے آپسی سیاسی اور ثقافتی اختلافات فراموش کر دیے تھے، تاہم یہ اختلافات اب دوبارہ سامنے آنے لگے ہیں اور اس کے اثرات سڑکوں پر بھی نظر آ رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم سیاسی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے مخالفین پر ملک کی حفاظت میں ناکامی کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
In an election year, American interests and Joe Biden's political future have already been dealt a major blow by Israel, as the United States is seen in many countries as Israel's ally.
Two days after a hernia operation this week, the Israeli president has returned to his office and has faced a large protest on the occasion. The protesters are demanding that Benjamin Netanyahu resign as prime minister and call for new parliamentary elections.After the October 7 attacks in Israel last year, Israelis had forgotten their political and cultural differences, but these differences are now resurfacing and its effects are also visible on the streets.
The Israeli prime minister is in political trouble and seems to be blaming his opponents for failing to protect the country.
.jpeg)
.png)
.jpeg)
.jpeg)
Comments
Post a Comment