ماسکو حملہ: شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ترکی میں تاجک شہریوں کو کیسے بھرتی کرتی ہے؟ Moscow Attack: How the Extremist Group Recruits Tajiks to Islamic State


 

ماسکو حملہ: شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ترکی میں تاجک شہریوں کو کیسے بھرتی کرتی ہے؟

  • سُہراب ضیا
  • عہدہ,بی بی سی فارسی

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے سے 40 کلومیٹر دور لویوب نامی ایک گاؤں ہے۔ یہاں بسنے والے لوگوں کو اس بات پر یقین کرنے میں دشواری کا سامنا ہے کہ ان کے علاقے کا ایک شخص ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر حملے میں ملوث ہے۔

لیکن اس علاقے سے تعلق رکھنے والے فریدون شمس الدین ان چار تاجک شہریوں میں سے ایک ہیں جو روس کے دارالحکومت ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر حملے کے الزام میں ایک روسی جیل میں قید ہیں۔

روس کے مطابق ان چار افراد نے گذشتہ ہفتے کروکس سٹی ہال پر حملہ کر کے 143 افراد کو قتل کیا تھا۔ پچیس سالہ فریدون پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے اس حملے کے لیے مزید دو تاجک شہریوں کو بھرتی کیا۔

فریدون کچھ ماہ قبل اپنا گاؤں لویوب چھوڑ کر ملازمت کی تلاش میں روس منتقل ہوئے تھے۔


40 km away from Dushanbe, the capital city of Tajikistan, there is a village named Loyub. Residents find it difficult to believe that a man from their area was involved in the attack on Moscow's Croix City Hall.


But Faridun Shamsuddin from this area is one of the four Tajik nationals who are in a Russian prison for the attack on the Croix City Hall in the Russian capital, Moscow.


According to Russia, the four men killed 143 people last week when they attacked Croix City Hall. 25-year-old Fereydoun is also accused of recruiting two more Tajik nationals for the attack.


Few months ago, Faridoon left his village Luyub and moved to Russia in search of a job.

Comments

Popular posts from this blog

5 Best Video Editors with 5 Star Ranking

چین میں، آپ بیت الخلا میں پیشاب کرنے جاتے ہیں، اور.....In China, you go to pee in the toilet, and